:نائٹروجن کی کمی کی وجوہات
نائٹروجن کی کمی کا سبب کئی مرحلوں میں ہو سکتا ہے۔ زمین کا خیال نا رکھنے سے پودوں کو نائٹروجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً وہ علاقوں میں جہاں طبعی طور پر نائٹروجن کی مقدار کم ہوچکی ہے ۔بےوقت مرحلہ پر غلط کھاد کے استعمال سے بھی فصل میں نائٹروجن کی کمی رہ جاتی ہے اس کے علاوہ،پانی کی نکاسی نا کرنے سے اور زمین میں پانی جمع رہنے سے بھی فصل پر استعمال ہونے والی کھاد ضائع ہوجاتی ہے اور فصل کی بھی نشونما نہیں ہوتی ۔ نکاسی آب نا کرنے کی بنا پر نائٹروجن کے ضائع ہونے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔کھاد میں تبدیلی پیدا ہو تی ہے، جو کہ نائٹروجن کے مرکبات کو گیس کی صورت میں تبدیل کر دیتی ہے اور ہوائی فضا میں جا کر ضائع ہو جاتی ہے۔ پودوں میں نائٹروجن کی کمی کئی عوامل پر منحصر ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں، زیادہ برسات نائٹروجن کو زمین سے نکال سکتی ہے، جس سے پودوں کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔
:علامات
نائٹروجن کی کمی کی فصل میں پہچان کرنا کافی مشکل ہوتا اگر پتوں پپر پیلاہٹ اور مرجھاہٹ واضح نا ہوتی۔نائٹروجن کی کمی پودے کی نشونما میں رکاوٹ بن جاتی ہے، پودےکے قد میں کمی اور بڑھوتری کا رک جانا نائٹروجن کی کمی کی پہلی علامات ہیں، کیونکہ نائٹروجن سیل ڈویژن اور نئے سیل بنانے کے لئے درکار ہوتا ہے۔ ایک عام علامت ہے بڑے پتوں کا پیلا ہو کر مرجھا جانا مگر نئے پتے ہرے اور تازہ اگتے ہیں۔ یہ عمل کلوروسس کے نام سےجانا جاتا ہے جو میسر نائٹروجن کو نئے پتوں تک پہنچاتا ہے تاکہ بڑے پتوں کی جگہ نئے پتوں کی نشوونما کو فروغ دیاجائے۔ پھولوں کا دیر سے کھلنا اور چھوٹے پھلوں کی تشکیل کی بھی کمی عام طور پر نائٹروجن کی کمی کی نتیجہ ہوتی ہے۔
:نائٹروجن کی کمی کا تدارک
نائٹروجن کی کمی کا حل تلاش کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ پہلے زمین کا پریکٹیکل پہلوؤں میں ٹیسٹ کروایئں تاکہ جس مائیکروننیوٹریئنٹ کی کمی ہے اس کی پہچان ہوسکے ۔اگر نائٹروجن کی کمی ہے تو نائٹروجن سے بھرپور منظم کھاد کا انتخاب کریں، جو کہ پودوں کو مناسب مقدار میں ضروری عناصر فراہم کر سکتی زمی میں مختلف فصلوں کا تبادلہ کرنے سے زمین پر بوجھ نہیں پڑتا اور غیر ضروری جڑی بوٹیاں بھی نہیں اگتیں طبیعی طریقوں سے نائٹروجن کی مقدار کو بڑھاتے ہیں۔ زرخیز اورگینک مواد مثلاً کمپوسٹ یا گوبر کو شامل کرنا زمین کی ساخت اور عناصر کی دستیابی کو بہتر بناتا ہے، جو نائٹروجن کی برقراری کا ایک پائیدار حل ہے۔