سیب کی کاشت پاکستان میں ایک اہم زرعی سرگرمی ہے، خاص طور پر خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں۔ سیب کی فصل کاشت کرنے کے لیے، بیج بونا کسانوں کے استعمال کردہ عام طریقوں میں سے ایک ہے۔ بیج بونے میں سیب کے بیجوں کو مٹی کے درمیانے درجے میں رکھنا اور ان کو اگنے کے لیے مناسب نمی اور درجہ حرارت فراہم کرنا شامل ہے۔ پاکستان میں، بیج بونے کا بہترین وقت موسم بہار یا موسم گرما کے شروع میں ہوتا ہے، عام طور پر مارچ سے مئی تک۔ زمین اچھی طرح سے نکاسی والی اور زرخیز ہونی چاہیے، جس کا پی ایچ لیول 6 سے 7 ہو۔ کسان عام طور پر ہل چلا کر اور نامیاتی مادے جیسے کہ کھاد یا اچھی طرح سڑی ہوئی کھاد ڈال کر مٹی تیار کرتے ہیں۔ سیب کے بیج قطاروں یا گڑھوں میں بوئے جاتے ہیں، ان کی گہرائی 2-3 سینٹی میٹر اور ان کے درمیان 15-20 سینٹی میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔ بوائی کے بعد، نمی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے مٹی کو مناسب طریقے سے پانی پلایا جانا چاہیے۔ بیج عام طور پر 2-4 ہفتوں کے اندر اگنے لگتے ہیں۔ ایک بار جب پودے 5-10 سینٹی میٹر کی اونچائی تک پہنچ جائیں تو انہیں مستقل جگہ پر ٹرانسپلانٹ کیا جا سکتا ہے۔ سیب کے درختوں کی صحت مند نشوونما اور پھلوں کی پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے مناسب دیکھ بھال، بشمول پانی دینا، کھاد ڈالنا، اور کیڑوں پر قابو پانا ضروری ہے۔
پاکستان میں سیب کی فصل کی بوائی کا عمل خطے اور لگائے جانے والے سیب کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ تاہم، بوائی کے عمل میں شامل عمومی اقدامات درج ذیل ہیں:
مٹی کی تیاری: سیب کی فصل کی بوائی کا پہلا مرحلہ مٹی کو تیار کرنا ہے۔ مٹی اچھی طرح سے نکاسی والی، زرخیز اور پی ایچ لیول 6.0 سے 7.0 ہونی چاہیے۔ مٹی کو جڑی بوٹیوں، چٹانوں اور دیگر ملبے سے بھی پاک ہونا چاہیے۔
بیج کا انتخاب: اگلا مرحلہ سیب کے بیجوں کو منتخب کرنا ہے۔ اچھی فصل کو یقینی بنانے کے لیے صحت مند اور بیماری سے پاک بیجوں کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔ بیج معروف بیج فراہم کنندہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پھول برگ: یہ سیب کی پیداوار کی پہلی مرحلہ ہوتی ہے جب درخت پھولوں کو دیکھانے لگتا ہے. اس مرحلے میں پھول برگ کو رسوبات بھرتے ہیں اور درخت کی صحتیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے.
بال کے حلقے: جب پھولوں کے بعد، بال کے حلقے پیدا ہوتے ہیں، یہ سیب کی دوسری مرحلہ ہوتی ہے. بال کے حلقے میں گلابی رنگ کے بھڑنے شروع ہوجاتے ہیں.
تخمیر: جب بال کے حلقوں کے بعد، تخمیر شروع ہوتی ہے، یہ سیب کی تیسری مرحلہ ہوتی ہے. سیب کے چھوٹے سازگار گول بھرے جاتے ہیں اور رنگتی ہونے شروع ہوتے ہیں۔
پختگی: جب تخمیر کے بعد، سیب کی پختگی شروع ہوتی ہے، یہ سیب کی چوتھی مرحلہ ہوتی ہے. سیب میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے اور رنگ گہرا ہوتا ہے.
جرمینیشن: منتخب شدہ بیجوں کو 24 گھنٹے تک پانی میں بھگو کر بیج کی بیرونی کوٹ کو نرم کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بیجوں کو اچھی طرح سے تیار شدہ مٹی سے بھری ہوئی سیڈنگ ٹرے یا نرسری کے بستر میں بویا جاتا ہے۔
پانی دینا: نئے بوئے ہوئے بیجوں کو مٹی کو نم رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پانی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ پانی دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ جڑوں کے سڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹرانسپلانٹنگ: جب پودے 4-6 انچ کی اونچائی تک بڑھ جائیں اور 4-5 بہترین پتے تیار ہو جائیں تو وہ پیوند کاری کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ بیجوں کو احتیاط سے سیڈلنگ ٹرے یا نرسری بیڈ سے نکال کر 20-25 فٹ کے فاصلے پر باغ میں ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے۔
کھاد ڈالنا: سیب کے درختوں کو صحت مند نشوونما اور اچھی فصل کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھاد کا استعمال مٹی کے تجزیہ اور سیب کے درختوں کی غذائیت کی ضروریات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔
کیڑوں اور بیماریوں کا کنٹرول: سیب کے درخت کیڑوں اور بیماریوں کے لیے حساس ہوتے ہیں، اور کیڑوں اور بیماریوں پر قابو پانے کے مناسب اقدامات کو نافذ کرنا ضروری ہے۔ اس میں قدرتی کیڑے مار ادویات کا استعمال، باقاعدہ کٹائی، اور باغ کا مناسب انتظام شامل ہوسکتا ہے۔
کٹائی: سیب کی فصل کاشت کے 4-5 سال بعد کٹائی کے لیے تیار ہوتی ہے۔ فصل کی کٹائی کا موسم سیب کی قسم اور علاقے کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ سیب کو اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب وہ مکمل طور پر پک جاتے ہیں اور اپنے بہترین سائز اور رنگ تک پہنچ جاتے ہیں۔پاکستان میں سیب کی فصل کی بوائی کے لیے اچھی فصل کو یقینی بنانے کے لیے محتاط منصوبہ بندی، مناسب مٹی کی تیاری اور باقاعدہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔