پاکستان میں گندم کی بوائی کا وقت بڑی حد تک مخصوص علاقے اور اس وقت کے موسمی حالات پر منحصر ہے۔ عام طور پر، گندم کو موسم خزاں میں، اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں لگایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹھنڈا درجہ حرارت اور کافی بارش اسے پودے لگانے کے لیے ایک بہترین موسم بناتی ہے۔ بیجوں کو عام طور پر کھالوں میں چھوٹے بیچوں میں بویا جاتا ہے، جو پھر مٹی سے ڈھک جاتے ہیں۔ یہ بیجوں کی یکساں تقسیم اور فصل کی مناسب نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ گندم کے اگنے کے موسم کی لمبائی خطے کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن عام طور پر گندم کو مکمل طور پر پکنے میں چھ سے سات ماہ لگتے ہیں۔ اس مدت کے دوران، کسانوں کو موسمی حالات اور زمین کی نمی کی سطح پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ان کی فصلیں صحت مند رہیں۔ مناسب آبپاشی اور کھاد ڈالنے سے بھی اچھی فصل کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
آب وہوا: گندم ایک معتدل اناج کی فصل ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کافی دھوپ اور معتدل درجہ حرارت کے ساتھ معتدل آب و ہوا کے لیے بہترین موزوں ہے۔ گندم کی نشوونما کے لیے بہترین درجہ حرارت کی حد 18-30°C (64-86°F) ہے، لیکن یہ 0°C (32°F) تک کم درجہ حرارت تک زندہ رہ سکتی ہے۔ گندم کو روشنی کی کافی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اگر درجہ حرارت بہت کم ہو تو اس کی نشوونما سست ہونے کا امکان ہے۔ ہوا کے لیے، گندم کو بڑھتے ہوئے موسم کے دوران اعتدال پسند نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر نمی بہت کم ہے تو گندم ہوا سے درکار نمی جذب نہیں کر سکے گی۔ مزید برآں، اگر ہوا میں بہت زیادہ پانی ہے، تو گندم کی جڑیں کافی آکسیجن لینے سے قاصر ہوسکتی ہیں، جو اس کی نشوونما کو روک سکتی ہے۔
زمین کاانتخاب : گندم اگانے کے لیے زمین کا انتخاب کرتے وقت مٹی کے معیار اور اس کی زرخیزی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مٹی اچھی طرح سے نکاسی والی، نامیاتی مادے سے بھرپور، اور پی ایچ 6.0-7.5 ہونی چاہیے۔ گندم کی پیداوار کے لیے سینڈی لوم اور سلٹ لوم والی زمین بہترین ہے۔ مٹی کو تیار کرتے وقت، یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ مٹی جڑی بوٹیوں، پتھروں اور دیگر ملبے سے پاک ہو۔ گندم کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے مٹی کی مناسب تیاری ضروری ہے۔ مزید برآں، گندم کے صحت مند پودوں اور پیداوار میں اضافے کے لیے اچھی زمین کی زرخیزی ضروری ہے۔ نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسی کھادیں زمین کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ کاشتکاروں کو فصل کی گردش کا استعمال بھی کرنا چاہیے تاکہ مونو کلچر فارمنگ اور مٹی کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچا جا سکے۔پہلے گندم کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری کی جاتی ہے. زمین کو ہڈا سمیت خوبصورت بنایا جاتا ہے تاکہ بیجوں کو اچھی طرح سینچا جا سکے. مٹی کو چھاننے کے بعد، زمین کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ بیجوں کو ایک ہموار اور برابر فاصلوں پر بونا جا سکے.
کھادوں کااستعمال : پاکستان میں گندم کی فصل کی صحت اور پیداوار کو برقرار رکھنے میں کھادوں کا اہم کردار ہے۔ کھادیں پودوں کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مٹی کی ساخت اور زرخیزی کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ کھادوں کے استعمال کے بغیر، پیداوار کم ہوگی اور فصل کا معیار متاثر ہوگا۔ پاکستان میں گندم کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی کھاد کا انحصار مٹی کی قسم اور آب و ہوا پر ہے۔ مثال کے طور پر، چکنی مٹی میں، نائٹروجن کی زیادہ مقدار والی کھاد کی سفارش کی جاتی ہے، جبکہ ریتیلی مٹی میں، زیادہ پوٹاشیم والی کھاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فاسفورس اور زنک بھی فصل کی بہترین نشوونما کے لیے اہم ہیں۔ جب کھاد کے استعمال کی بات آتی ہے تو وقت اہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں کھاد ڈالنے کا بہترین وقت بوائی کا وقت ہے یا پودوں کی نشوونما شروع ہونے سے پہلے۔
بوائی کے وقت کھاد: سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کھاد نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم (NPK) ہے۔ گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے بوائی کے وقت کھاد ڈالیں۔
بیجوں کا انتخاب: زمین کی سمیت موزوں گندم کے بیجوں کا انتخاب کریں. محلی بیجوں کو پہلی ترجیح دیں جو آپ کے علاقے کی موقعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے موزوں موسمی شرائط کے لئے تیار کیا گیا ہو.
بونے کا طریقہ: بیجوں کو صاف پانی میں ڈبو کر تیار کریں. پھر انہیں اچھی طرح سکھائیں تاکہ وہ زمین پر موثر طور پر بونے جاسکیں. گندم کو گہرائی میں 2-3 انچ کے فاصلے پر بوئیں.
پانی کا استعمال: گندم کے بوتوں کے بعد، اسے اچھی طرح پانی دیں. تاکہ مٹی کی سطح پر پانی کا استعمال کریں اور گندم کو زیادہ بڑا ہونے دیں.
کیچڑ: گندم کی بوائی کے دوران برف زدہ زمینوں میں کیچڑ کے گیر کا انتظام کریں. کیچڑ سے بچنے کیلئے، زمین کو پہلے ہی مسطح کرنے کی کوشش کریں.